‘People flew from their seats’: Passengers describe how Bedford train crash unfolded

b269e2ec-257b-48c5-b8a3-22eecb648c0c-0

Bedford میں ٹرین ٹکر کے بعد لوگ چھوڑ کر بھاگے: مسافر کی گفتگو

People flew from their seats – Bedford ٹرین کی ٹکر کے واقعہ میں لوگ اپنی سیٹوں سے باہر نکل کر بھاگے، جیسا کہ مسافر کی جانب سے BBC کو بیانات میں واضح طور پر کیا گیا ہے۔ 16:40 بجے کوری سے لندن سٹ پنکراس جانے والی ٹرین اور 15:50 بجے نوتинг ہم چلانے والی ٹرین کے درمیان ٹکر کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا، جبکہ 89 دوسرے زخمی ہوئے۔ East of England Ambulance Service کے مطابق، 11 لوگوں کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ 22 لوگوں کے خفیہ زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

واقعہ کی تفصیلات اور اسٹیشن کے اطراف

حکام کے مطابق، ٹرین کی ٹکر کی گرج ایک مسلسل ہنگامہ آرما کی طرح سنتے ہوئے مسافر ڈاکٹر پیٹر کنپ نے کہا کہ “ٹرین کی ٹکر کے وقت محسوس ہوا کہ میں ایک بموں کے تباہ کرنے میں تھا۔” اس ٹکر کے نتیجے میں تیزی سے سیٹوں کی ٹکر سے خون کی بہہت اور چیخ چیخا کرنے کا دکھاوتا ہے۔ اس واقعہ کی گولیاں ٹرین کے سیٹوں سے باہر چھوڑ کر بھاگے لوگوں کی خوفناک تجربہ کو دکھاتی ہیں۔

“میرے آگے ایک عورت تھی جس کے ٹھیک ٹھیک ٹہہ گئی ہے، اور اس کے پیچھے ایک دوسری عورت تھی – وہ ایک دوسرے پر گری ہوئی ہے، اس کی پشت کی وجہ سے وہ آگے نہیں بڑھ سکی۔” مسافر برت بائیٹ نے BBC کو بیان دیا۔

ٹرین کی تیزی اور پھر تیزی سے رکنے کا تجربہ

سیم یونٹی، جو کیتربیٹن سے لندن جانے والی ٹرین میں سوار تھا، نے کہا کہ “ہم نے ٹرین کی بڑی تیزی سے رکنے کو محسوس کیا، جو غیر معمولی محسوس ہوتا تھا۔” اس موقع پر ایک ٹرین Bedford کے جنوب میں رک گئی تھی، جبکہ دوسری ٹرین اس کی ٹکر کرکے سیٹ کے نیچے سے گزری۔ اس طرح کی ٹکر کی وجہ سے مسافر اپنی سیٹوں سے گر کر زخمی ہوئے۔

“ Bedford سے لندن لوتن کے راستے ٹرین کی گرج ہمیشہ تیز رہتی ہے، اور میں اس کی رکنے کو محسوس کیا۔” Bedford کے ایک تدریسی عملہ برت بائیٹ نے کہا۔

گردن کے نیچے خون سے پھیلے ہوئے چہروں کا واقعہ

تeresa ٹیٹور، جو ویلنبروہ پر سوار ہو کر لندن جانے والی ٹرین میں شامل ہوئی تھی، نے کہا: “ ہم Bedford اسٹیشن سے باہر نکلے، اور اس وقت ایک بڑا ہنکار ہوا۔ میری گردن پر ٹکر ہوئی، اور جب میں آنکھیں کھولی تو میں گردن کے نیچے لوگوں کے خون سے پھیلے ہوئے چہروں کو دیکھا۔” مسافر کی جانب سے دیے گئے بیانات میں ٹرین کی ٹکر سے لوگ چھوڑ کر بھاگے کے تجربے کی تفصیلات اور اس کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی حالت کے بارے میں تحقیقاتی ڈیٹا بھی شامل ہے۔

“میں نے دیکھا کہ تمام سیٹیں پھٹ رہی ہیں، اور محسوس ہوا کہ میں ایک بموں کے تباہ کرنے میں تھا۔” ڈاکٹر پیٹر کنپ نے BBC کو بیان دیا۔

ٹرین کی ٹکر کے وقت لوگوں کی حالت

شولا مینے، جو ٹرین کی ٹکر کے موقع پر موجود تھا، نے کہا کہ “ٹرین کی ٹکر کے وقت لوگ سیٹوں سے باہر نکل کر بھاگے۔” اس واقعہ کے دوران کچھ لوگ اپنی سیٹوں کے نیچے سے گزرے، جبکہ دوسرے ٹکر کے نتیجے میں گر کر زخمی ہوئے۔ اس طرح کی تیزی سے ٹکر اور کشیدگی کی وجہ سے لوگوں کے پیٹ اور ہڈیوں پر شدید زخمی ہونے کی گفتگو کی گئی۔

اس واقعہ کے بعد، مسافر اپنی چیخ چیخا کرنے اور خون کی بہہت کے بارے میں بیان دیتے ہیں۔ ایک مسافر نے کہا کہ “لوگ سیٹوں سے باہر چھوڑ کر بھاگے، اور پھر ایک شخص اپنی گردن کے نیچے میرے شوہر کے چہرے پر لگا۔” اس طرح کے تجربے نے لوگوں کے ذہن میں ڈالے ہوئے اثرات کو ظاہر کرتے ہیں، جن میں خوف، اضطراب اور بے ہوشی شامل ہے۔

اس واقعہ کی تحقیقات کے مطابق، ٹرین کی ٹکر کی وجہ سے ایک کریں میں سے باہر ہونے والے لوگوں کی حالت خطرناک تھی۔ اس موقع پر لوگوں کے اپنی سیٹوں سے چھوڑ کر بھاگے کے تجربات اور ٹرین کی تیزی سے رکن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *